Search This Blog

فکر وعمل کا توازن: شروع اور پختگی

فکر و عمل کا توازن: شعور اور پختگی

شمس الہدیٰ قاسمی

انسانی زندگی محض سانس لینے اور روز و شب گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ مسلسل سیکھنے اور ارتقاء کا عمل ہے۔ اس ارتقائی سفر میں دو اوصاف ایسے ہیں جو ایک عام انسان کو "شخصیت" کے درجے پر فائز کرتے ہیں: شعور اور پختگی۔ شعور اگر انسان کو حقیقت کا ادراک عطا کرتا ہے، تو پختگی اس ادراک کو عمل کے سانچے میں ڈھال کر وقار بخشتی ہے۔ یہ دونوں اوصاف لازم و ملزوم ہیں؛ شعور کے بغیر انسان بصیرت سے محروم رہتا ہے اور پختگی کے بغیر اس کا علم بے سمت رہتا ہے۔

شعور محض معلومات کے ذخیرے یا ڈگریوں کے انبار کا نام نہیں ہے۔ یہ وہ داخلی روشنی ہے جو انسان کو حالات، الفاظ اور نتائج کی گہرائی سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ ایک باشعور فرد صرف وہ نہیں دیکھتا جو دکھایا جا رہا ہے، بلکہ وہ لفظوں کے پیچھے چھپے معنی اور عمل کے دور رس اثرات کو بھی بھانپ لیتا ہے۔

ایک عام آدمی کسی حادثے پر صرف افسوس کرتا ہے یا مجمع کا حصہ بن جاتا ہے، لیکن ایک باشعور فرد فوری طور پر امدادی کارروائی کی ضرورت کو سمجھتا ہے اور ہجوم کی نفسیات سے بچ کر عملی حل تلاش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک غلط قدم یا غلط افواہ صورت حال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

پختگی دراصل شعور کی عملی آزمائش کا نام ہے۔ ایک پختہ انسان جانتا ہے کہ ہر سچ ہر مقام پر کہہ دینا دانائی نہیں، اور ہر خاموشی بزدلی نہیں ہوتی۔ پختگی انسان کو انا کے خول سے نکال کر مقصدیت کی بلندی پر لے جاتی ہے۔

تاریخِ اسلام میں صلحِ حدیبیہ پختگی اور شعور کی بہترین مثال ہے۔ بظاہر دب کر کیے جانے والے معاہدے کو صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد نے اپنی جذباتی وابستگی کی بنا پر گراں محسوس کیا، لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے وسیع شعور اور سیاسی پختگی سے اس کے مستقبل کے اثرات کو دیکھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ وہ بظاہر "دب کر" کیا گیا معاہدہ دراصل "فتحِ مبین" کی بنیاد تھا۔ یہ پختگی ہی تھی جس نے فوری ردِعمل کے بجائے دور رس نتائج کو ترجیح دی۔

پختہ انسان اپنی ذات پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ غصہ یا اشتعال شعور کو مفلوج کر دیتا ہے۔
کسی دانا کا قول ہے:
 "اعلیٰ ذہن نظریات پر بحث کرتے ہیں، اوسط ذہن واقعات پر، جبکہ چھوٹے ذہن لوگوں پر بحث کرتے ہیں۔"

یہ قول شعور اور پختگی کے فرق کو واضح کرتا ہے۔ پختہ انسان شخصیات کو نشانہ بنانے کے بجائے نظریاتی اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رہ کر پیش کرتا ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے شعور اور پختگی کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔ معلومات کی فراوانی نے ہمیں "باخبر" تو کر دیا ہے لیکن "باشعور" نہیں۔ آج ایک کلک پر کسی کی پگڑی اچھالنا یا کسی کی نیت پر شک کرنا آسان ہو گیا ہے۔

 شعور کا تقاضا ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا۔
 پختگی کا تقاضا ہے کہ کسی کی تنقید پر آپے سے باہر ہونے کے بجائے اپنی خامیاں تلاش کرنا اور وقار کے ساتھ جواب دینا۔

درحقیقت، شعور سیکھنے اور مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے جبکہ پختگی برداشت اور تجربے کی بھٹی میں تپ کر آتی ہے۔ جو انسان دوسروں کو سننا اور سمجھنا سیکھ لیتا ہے، وہ دانائی کی پہلی سیڑھی چڑھ جاتا ہے، اور جو ناموافق حالات کو برداشت کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ پختگی کی معراج پا لیتا ہے۔
فرد ہو یا معاشرہ، ترقی کا راستہ انہی دو اوصاف سے ہو کر گزرتا ہے۔ شعور کے بغیر علم اندھا ہے جو صرف غرور پیدا کرتا ہے، اور پختگی کے بغیر عمل خطرناک ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

حجامہ کے فوائد: تحقیقی و سائنسی جائزہ

تمہید
انسانی صحت کی حفاظت اور امراض کے علاج کے لیے قدیم زمانے سے مختلف طریقۂ علاج رائج ہیں۔ ان طریقوں میں حجامہ (Cupping Therapy) کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ نہ صرف ایک قدیم اور آزمودہ علاج ہے بلکہ اس کی بنیاد سنتِ نبوی ﷺ پر بھی ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ حجامہ انسانی جسم پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔ اس تحقیقی مضمون میں ہم حجامہ کے طبی، روحانی اور سائنسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

حجامہ کی تعریف اور پس منظر:
عربی میں "حجم" کا مطلب ہے "چوسنا" یا "کھینچنا"۔ حجامہ میں جسم کے مخصوص مقامات پر کپ لگا کر خلا (Vacuum) پیدا کیا جاتا ہے جس کے بعد باریک خراش دے کر فاسد خون کو خارج کیا جاتا ہے۔

تاریخی حوالہ:
قدیم مصر، یونان اور چین میں حجامہ علاج کا بنیادی طریقہ سمجھا جاتا تھا۔

امام ابنِ قیم رحمہ اللہ (زاد المعاد) نے حجامہ کے فوائد پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
جدید دور میں بھی عالمی سطح پر "Cupping Therapy" کے نام سے یہ طریقہ پھیل رہا ہے۔

حجامہ کی سنت حیثیت
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تمہارے علاجوں میں سب سے بہتر علاج حجامہ ہے"
(صحیح بخاری، حدیث: 5696)
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں باب (الطب – حجامہ کے ذکر میں) حدیث نمبر 3476 روایت کی ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ"
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 3476)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تمہارے علاجوں میں کسی چیز میں بھلائی ہے تو وہ حجامہ ہے۔"
اس حدیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجامہ کو بہترین اور مؤثر علاج قرار دیا۔
اس طرح حجامہ کو سنت قرار دینا اور اسے شفا کا ذریعہ سمجھنا ایمان والوں کے لیے ایک روحانی پہلو رکھتا ہے۔

طبی فوائد (سائنسی تحقیقات کی روشنی میں)

1. خون کی صفائی اور زہریلے مادوں کا اخراج

حجامہ سے خون میں موجود Toxins اور فاسد رطوبات خارج ہو جاتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق:

 "Wet Cupping removes oxidative substances, reduces uric acid, and improves blood circulation."
(Ref: Journal of Traditional and Complementary Medicine, 2016)

2. درد میں کمی

تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ حجامہ جسم میں Endorphins پیدا کرتا ہے جو قدرتی Pain Killer کا کام کرتے ہیں۔
(Ref: Pain Medicine Journal, 2010)

3. قوتِ مدافعت میں اضافہ

حجامہ سے White Blood Cells کی تعداد بڑھتی ہے جو جسم کو بیماریوں سے بچاتی ہیں۔
(Ref: Saudi Medical Journal, 2005)

4. بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا توازن

مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حجامہ کرنے سے بلڈ پریشر میں واضح کمی آتی ہے اور کولیسٹرول لیول متوازن رہتا ہے۔
(Ref: Journal of Acupuncture and Meridian Studies, 2013)

5. جلدی امراض میں افادیت

ایگزیما اور جلدی الرجی کے مریضوں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ حجامہ جلد کے مدافعتی خلیات کو متحرک کر کے افاقہ دیتا ہے۔
(Ref: Complementary Therapies in Medicine, 2014)

6. بانجھ پن اور تولیدی صحت

کچھ مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حجامہ تولیدی اعضاء میں خون کی روانی کو بہتر بنا کر بانجھ پن کے علاج میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
(Ref: Middle East Fertility Society Journal, 2017)

7. کھیلوں میں کارکردگی

2016 کے Rio Olympics میں متعدد کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی اور بحالی (Recovery) کے لیے Cupping Therapy کا استعمال کیا، جس سے یہ عالمی سطح پر مزید مقبول ہوا۔

روحانی فوائد

سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع کی وجہ سے ثواب کا حصول۔
نفسیاتی سکون، ذہنی دباؤ میں کمی اور قلبی اطمینان۔
ایمان کی تازگی اور عملِ صالح کا ذریعہ۔

احتیاطی تدابیر
حجامہ ہمیشہ کسی مستند اور ماہر معالج سے کروایا جائے۔
صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔
حاملہ خواتین، کمزور مریض اور خون پتلا کرنے والی دوائیں استعمال کرنے والے افراد احتیاط کریں۔

تحقیقی اور سائنسی شواہد اس بات پر متفق ہیں کہ حجامہ ایک مؤثر، محفوظ اور کم لاگت علاج ہے جو جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کی صحت کے لیے مفید ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ کی برکت اور سائنسی فوائد کا حسین امتزاج حجامہ کو ایک منفرد اور لازمی علاجی طریقہ بناتا ہے۔




Motivational Quotes

Some Motivational Quotes:

1. "Believe you can, and you’re halfway there."

یقین رکھو کہ تم کر سکتے ہو، اور تم آدھے راستے پر پہنچ جاتے ہو۔

2. "Small steps in the right direction can turn out to be the biggest step of your life."
  
صحیح سمت میں چھوٹے قدم تمہاری زندگی کے سب سے بڑے قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

3. "Push yourself, because no one else is going to do it for you."

اپنے آپ کو آگے بڑھاؤ، کیونکہ کوئی اور یہ تمہارے لیے نہیں کرے گا۔

4. "Difficult roads often lead to beautiful destinations."

مشکل راستے اکثر خوبصورت منزلوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

5. "The best view comes after the hardest climb."
  
سب سے خوبصورت منظر سب سے مشکل چڑھائی کے بعد آتا ہے۔
___ 

 Shamsul Hoda Qasmi

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

This Path is Very Delicate

In a conversation, he said: 

"This path is very delicate. One may understand it through the company of a true scholar, otherwise, it cannot be fully comprehended through books alone, nor can one succeed by relying solely on them. Just like one cannot become a skilled physician by merely reading medical books without spending time with an expert. If such a person were to treat a patient, that patient would not be safe. Similarly, the condition of a spiritual patient would not improve either; who knows what wrong methods a misguided person might adopt, leading to harm instead of benefit. To recognize a true guide, one needs the testimony of another accomplished person. Nowadays, ignorant people have become spiritual guides and have tarnished this path with their ignorance. May Allah grant us sound understanding."

Malfoozat Hakim-ul-Ummat, Volume 1, Page 150

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

यह तरीक़ (तसव्वुफ का रास्ता) बहुत ही नाज़ुक है!

एक सिलसिला-ए-गुफ़्तगू में फ़रमाया! कि यह तरीक़ (तसव्वुफ का रास्ता) बहुत ही नाज़ुक है, किसी मुहक़्क़िक़ (शोधकर्ता) की सोहबत (संगत) से कुछ समझ में आ जाए तो आ जाए, वरना किताबों से पूरा समझ में नहीं आ सकता और न काम चल सकता है, जैसे तिब्ब (डाक्टरी) की किताबें पढ़ कर बिना माहिर-ए-फ़न (ज्ञानी) की सोहबत (संगत) में रहे हुए मतब (क्लीनिक) नहीं कर सकता। अगर ऐसा शख़्स किसी मरीज़ पर हाथ डालेगा तो उस मरीज़ की ख़ैर नहीं। इसी तरह मरीज़-ए-रूहानी की भी ख़ैर नहीं, न मालूम नाक़िस (अधूरे) की तालीम (शिक्षा) से क्या उलट-पलट तदबीरें इख़्तियार कर ले और बजाए नफ़ा के मज़र्रत (हानि) में फँस जाए और कामिल (माहिर) की मारिफ़त (पहचान) के लिए ज़रूरत है किसी कामिल की शहादत (गवाही) की। आजकल तो जोहला (अज्ञानी) मशाइख़ बने हुए हैं, इस जहल (अज्ञानता) की बदौलत तरीक़ (तसव्वुफ) को बदनाम कर दिया। हक़ तआला फ़हम-ए-सलीम (सही समझ) अता फरमाएं।

मल्फ़ूज़ात हकीमुल उम्मत भाग - 1 पृष्ठ 150

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

یہ طریق بہت ہی نازک ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ یہ طریق بہت ہی نازک ہے، کسی محقِّق کی صحبت سے کچھ سمجھ میں آ جائے تو آ جائے ورنہ کتابوں سے پورا سمجھ میں نہیں آ سکتا اور نہ کام چل سکتا ہے، جیسے طِب کی کتابیں پڑھ کر بدون ماہرِ فن کی صحبت میں رہے ہوئے مطب نہیں کر سکتا ۔ اگر ایسا شخص کسی مریض پر ہاتھ ڈالے گا اس مریض کی خیر نہیں۔ اسی طرح مریض روحانی کی بھی خیر نہیں، نہ معلوم ناقص کی تعلیم سے کیا الٹ پلٹ تدابیر اختیار کر لے اور بجائے نفع کے مضرت میں پھنس جائے اور کامل کی معرفت کیلئے ضرورت ہے کسی کامل کی شہادت کی ۔ آج کل تو جہلاء مشائخ بنے ہوئے ہیں، اس جہل کی بدولت طریق کو بدنام کر دیا۔ حق تعالی فہم سلیم عطا فرمائیں ۔

ملفوظات حکیم الامت جلد - 1 ص 150

मलफ़ूज़ात हकीमुल उम्मत हज़रत थानवी

हज़रत की नज़र

एक मौलवी साहब ने अर्ज़ किया कि हज़रत, शैतान भी आपका बड़ा ही दुश्मन है, जितनी दुश्मनी तमाम हिंदुस्तान के मुसलमानों से होगी उतनी अकेले हज़रत से है, क्योंकि हज़रत उसके मकर व फरेब (मक्कारी और धोखे) से अल्लाह की मख़लूक़ को आगाह (सचेत) फरमाते रहते हैं, वह इस पर जलता भुनता होगा। 

फ़रमाया कि मुमकिन (संभव) है, मगर साथ ही वह मुझको नफ़ा (लाभ) भी बहुत पहुँचाता है, इस तरह से कि वह लोगों को बहकाता है और लोग मुझको नाहक़ (बिला वजह) गालियाँ देते हैं, इस पर सब्र करता हूँ, अल्लाह मेरे गुनाह माफ़ करता है और दर्जात बुलंद करता है।

मलफूज़ात हकीम-उल-उम्मत : भाग 1 पृष्ठ. 149

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

Hazrat Thanvi's Vision 

A scholar said, "Hazrat, even Satan is a great enemy of yours. His enmity towards you is as intense as it is towards all the Muslims of India combined, because you continuously warn Allah’s creation about his deceit and trickery. He must be burning with anger because of this."

Hazrat replied, "It is possible, but at the same time, he also benefits me greatly in a way. He misguides people, and they unjustly insult me. I endure it with patience, and in return, Allah forgives my sins and elevates my ranks."

Malfoozat Hakim-ul-Ummah: Volume 1, Page 149

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi


حضرت کی نظر

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شیطان بھی آپ کا بڑا ہی دشمن ہے ، جس قدر تمام ہندوستان کے مسلمانوں سے دشمنی ہو گی اتنی اکیلے حضرت سے ہے ، کیونکہ حضرت اس کے مکر و فریب سے اللہ کی مخلوق کو آگاہ فرماتے رہتے ہیں وہ اس پر جلتا بُھنتا ہو گا ۔ 
فرمایا کہ ممکن ہے ، مگر ساتھ ہی وہ مجھ کو نفع بھی بہت پہنچاتا ہے، اس طرح سے کہ وہ لوگوں کو بہکاتا ہے وہ مجھ کو ناحق گالیاں دیتے ہیں، اس پر صبر کرتا ہوں اللہ میرے گناہ معاف فرماتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے ۔

ملفوظات حکیم الامت : جلد 1 ص 149

मलफ़ूज़ात हकीमुल उम्मत हज़रत थानवी

"बेहतर अज़ सद साला ताअते बे रिया" का मतलब (अर्थ)

एक मौलवी साहब ने अर्ज़ किया कि हज़रत ज़रा इसका मतलब बयान फरमा दें, इसका मतलब क्या है:

"सोहबत-ए-नेकां अगर यक साअत अस्त,  
बेहतर अज़ सद साला ज़ोहद ओ ताअत अस्त।"

(नेक़ों की सोहबत (संगत) अगर एक साअत (घड़ी) के लिए मुयस्सर (हासिल) हो जाए तो सौ साला ज़ोहद ओ ताअत से (जो बग़ैर रहबर-ए-कामिल के हो) बेहतर है।)

फ़रमाया मुझसे तो आप ही बेहतर समझने वाले हैं मगर मैं जो समझा हूँ वह यह है कि कामिल (पीर) की सोहबत में बाज़ औक़ात (कभी कभी) कोई ग़ुर हाथ आ जाता है या कोई हालत ऐसी क़ल्ब (दिल) में पैदा हो जाती है जो सारी उम्र के लिए मिफ़्ताह-ए-सआदत (नेकी और ख़ुशी की कुंजी) बन जाती है।  
यह कुल्लिया (नियम) नहीं बल्कि मोहमला (अनिश्चित) है। हर वक़्त या हर साअत (समय) मुराद नहीं। बल्कि वही वक़्त और वही साअत मुराद है जिसमें ऐसी हालत पैदा हो जाए।

अर्ज़ किया तो क्या हर सोहबत इस वजह से मुफ़ीद (लाभदायक) न होगी?  

फ़रमाया कि है तो यही मगर किस को इल्म (ख़बर) है कि वो कौन साअत (घड़ी) है जिसमें यह हालत मुयस्सर होगी। हर सोहबत में इसका एहतिमाल (संभावना) है इसलिए हर सोहबत का एहतिमाम (ख़्याल) चाहिए। इस से हर सोहबत का मुफ़ीद और नाफ़े (लाभदायक) होना ज़ाहिर है और इस हालत को सद साला ताअत (सौ साल की इबादत) के क़ाइम मक़ाम (बराबर) बतलाने को एक मिसाल से समझ लीजिए:
अगर किसी के पास सौ गिन्नी हों तो बज़ाहिर तो उसके पास अम्तिआ (सामान) में से एक चीज़ भी नहीं मगर अगर ज़रा तअम्मुक (गहराई) की नज़र से देखा जाए तो हर चीज़ उसके क़ब्ज़ा में है। इसी तरह अगर वो कैफ़ियत उसके अंदर पैदा हो गई तो बज़ाहिर तो ख़ास ताअतों (इबादतों) में से कोई भी चीज़ उसके पास नहीं मगर हुक्मन (आदेशानुसार) हर चीज़ है। पस मुराद आमाल पर क़ुदरत (क़ाबू) होना है, इस से सब काम उसके बन जाएंगे और असल चीज़ वही काम हैं जिनकी यह मिफ़्ताह (कुंजी) सोहबत में नसीब हो गई। अगर वो आमाल न किए तो निरी मफ़्ताह किस मसरफ (इस्तेमाल) की।

इसी लिए यह कहता हूँ कि बिदून आमाल (बिना इबादत) न कुछ एतिबार है अक़वाल (बात) का, न अहवाल (हालत) का, न कैफ़ियात का। इसी लिए इन चीज़ों में से किसी चीज़ में भी हज़्ज़ (मज़ा) न होना चाहिए। अगर एतिबार के क़ाबिल कोई चीज़ है तो वह आमाल हैं और आमाल बिला तौफ़ीक-ए-हक़ के मुश्किल और तौफ़ीक आदतन मौक़ूफ़ (आधारित) है सोहबत-ए-कामिल पर।

मल्फ़ूज़ात हकीम-उल-उम्मत रह.: भाग 1, पृष्ठ 49

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

The meaning of "Better than a hundred years of unpretentious devotion.

A scholar asked, "Hazrat, please explain the meaning of this phrase:

"The companionship of the righteous, even for a moment,  
Is better than a hundred years of asceticism and devotion."

(If one is blessed with the companionship of the righteous, even for a moment, it is better than a hundred years of asceticism and devotion (that is performed without a complete guide).

He (Hakim-ul-Ummah) replied, "You are more knowledgeable than I am, but my understanding is that sometimes, in the company of a perfect mentor, a secret is revealed, or a state arises in the heart that becomes the key to happiness for a lifetime. This is not a general rule but an exceptional case. It is not meant to imply that every moment is beneficial, but only that specific moment when such a state occurs."

The scholar asked, "Does this mean that not every companionship would be beneficial?"  
He replied, "It is true, but who knows which moment it will be when such a state will be attained. There is always a possibility of this happening in every companionship, so one should be diligent in seeking companionship. This indicates that every companionship has the potential to be beneficial and useful. To understand how this state can be equivalent to a hundred years of devotion, consider this example: If someone possesses a hundred coins, outwardly, he may not have any valuable items, but if we think deeply, he actually has access to everything. Similarly, if this quality arises within a person, he may not seem to possess specific acts of worship, but in reality, he holds the essence of everything."

"So, the main point is that it is the ability to act upon deeds that matters. With that ability, everything will fall into place, and the essential part is those deeds for which this key has been attained through companionship. If those deeds are not performed, then the key alone is of no use."

"That's why I say that without actions, neither words, states, nor conditions have any significance. One should not become too attached to these things. If there is anything worth considering, it is actions, and actions are difficult without the grace of Allah. This grace, generally, depends on the companionship of a perfect mentor."

Malfoozat Hakim-ul-Ummah (RA), Volume 1, Page 49

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

"بہتر از صد ساله طاعت بے ریا" کا مطلب

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذرا اس کا مطلب بیان فرما دیں، اس کا مطلب کیا ہے:

صحبتِ نیکاں اگر یک ساعت است۔
بہتر از صد ساله زہد و طاعت است۔

(نیکوں کی صحبت اگر ایک ساعت کیلئے میسر ہو جائے تو سو سالہ زہد و طاعت سے (جو بغیر رہبرِ کامل کے ہو ) بہتر ہے)

فرمایا مجھ سے تو آپ ہی بہتر سمجھنے والے ہیں مگر میں جو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کے کامل کی صحبت میں بعض اوقات کوئی گُر ہاتھ آ جاتا ہے یا کوئی حالت ایسی قلب میں پیدا ہو جاتی ہے جو ساری عمر کے لئے مفتاحِ سعادت بن جاتی ہے۔
 یہ کلیہ نہیں بلکہ مہملہ ہے۔ ہر وقت یا ہر ساعت مراد نہیں ۔ بلکہ وہی وقت اور وہی ساعت مراد ہے جس میں ایسی حالت پیدا ہو جائے۔

عرض کیا تو کیا ہر صحبت اس وجہ مفید نہ ہو گی ؟ 
فرمایا کہ ہے تو یہی مگر کس کو علم ہے کہ وہ کون ساعت ہے جس میں یہ حالت میسر ہو گی ۔ ہر صحبت میں اس کا احتمال ہے اسلئے ہر صحبت کا اہتمام چاہئے ۔ اس سے ہر صحبت کا مفید اور نافع ہونا ظاہر ہے اور اس حالت کو صد سالہ طاعت کے قائم مقام بتلانے کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے ۔ اگر کسی کے پاس سو گِنی ہوں تو بظاہر تو اس کے پاس امتعہ میں سے ایک چیز بھی نہیں مگر اگر ذرا تعمّق کی نظر سے دیکھا جائے تو ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اسی طرح اگر وہ کیفیت اس کے اندر پیدا ہو گئی تو بظاہر تو خاص طاعات میں سے کوئی بھی چیز اس کے پاس نہیں مگر حُکماً ہر چیز ہے۔ پس مراد اعمال پر قدرت ہونا ہے اس سے سب کام اس کے بن جائیں گے اور اصل چیز وہی کام ہیں جن کی یہ مفتاح صحبت میں نصیب ہو گئی، اگر وہ اعمال نہ کئے تو نِری مفتاح کس مصرف کی .

اسی لئے یہ کہتا ہوں کہ بدون اعمال نہ کچھ اعتبار ہے اقوال کا نہ احوال کا نہ کیفیات کا ۔ اس ہی لئے ان چیزوں میں سے کسی چیز میں بھی حظ نہ ہونا چاہئے اگر اعتبار کے قابل کوئی چیز ہے تو وہ اعمال ہیں اور اعمال بلا توفیق حق کے مشکل اور توفیق عادةً موقوف ہے صحبتِ کامل پر.

ملفوظات حکیم الامت رح: جلد 1، صفحہ 49

Characteristics of Good Students

اچھے طالب علم کی خصوصیات

شمس الہدیٰ قاسمی، 
جامعہ اکل کوا، مہاراشٹر 


علم کی فضیلت
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں علم، طلبِ علم اور طالب علم کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ کہیں فرمایا گیا ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ کہیں علم میں اضافے کی دعا سکھائی گئی ہے تو کہیں علمِ نافع کی دعا مانگنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
 
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے۔ ترمذی

ایک جگہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔ (مسلم)

اسی طرح بیہقی میں ایک روایت ہے جس میں فرمایا گیا کہ عالم بنو، یا طالب علم بنو، یا علم کی باتیں سننے والے بنو، یا اہل علم سے محبت کرنے والے بنو، پانچواں نہ بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس حدیث میں کا صراحت کے ساتھ علم اور علم حاصل کرنے فضیلت بیان کی گئی ہے نیز علم اور علماء سے دوری کی صورت میں ہلاک ہونے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ 

مذہبِ اسلام میں علم اور طلبِ علم کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ لہٰذا ہمیں اس بات کے جاننے کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ آخر حصولِ علم کے آداب کیا ہیں، وہ کون سی خصوصیات اور خوبیاں ہیں جو طالبِ علم کو ایک بہترین اور مثالی طالب علم بناتی ہیں اور اسے کامیابی سے ہم کنار کرتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم اچھے اور مثالی طالب علم کی چند خصوصیات ذکر کرتے ہیں۔ 

 بہترین طالب علم
ایک بہترین اور مثالی طالب علم وہ ہوتا ہے جو اپنی نیت کو خالص کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا، اپنی اصلاح اور دوسروں کی بھلائی کے لیے علم کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم کے معاملے میں نہایت مخلص، سنجیدہ اور محنتی ہوتا ہے۔ لگن اور شوق کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بناتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی تعلیم میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ اخلاقی اور سماجی اعتبار سے بھی قابلِ تقلید ہوتا ہے۔ ایک بہترین طالب علم کی خصوصیات صرف تعلیمی میدان تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ وہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔

 مطالعہ کی عادت
بہترین طالب علم مطالعہ کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ وہ روزانہ اپنے قیمتی اوقات کتابوں کے مطالعے میں صرف کرتا ہے اور مضامین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ نہ صرف نصابی کتابیں پڑھتا ہے بلکہ غیر نصابی کتابوں سے بھی حد درجہ شغف رکھتا ہے اور ان سے معلومات حاصل کرتا ہے تاکہ اس کی معلومات کا دائرہ وسیع ہو، مضامین کے سمجھنے میں آسانی ہو اور علم و شعور میں پختگی آئے۔ 

 وقت کی پابندی
وقت کی پابندی ایک بہترین اور مثالی طالب علم کی اہم خصوصیت ہے۔ وہ وقت کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور اپنے تمام تعلیمی کاموں اور سرگرمیوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مدرسہ، اسکول، کالج، یا یونیورسٹی کے مقررہ وقت پر پہنچتا ہے اور اپنے وقت کو موثر طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے: 
وقت برباد کرنے والوں کو
وقت برباد کرکے چھوڑے گا 
 جو وقت میسر ہے اسی میں کچھ کر گزرنے کی انسان میں صلاحیت ہوتی ہے۔ گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لایا جا سکتا، اچھے اور مثالی کو معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل ایک خواب  ہے جس کی تعبیر حال میں محنت کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ 

 توجہ اور محنت 
درس گاہ اور کلاس میں توجہ دینا اور محنت سے تعلیم حاصل کرنا ایک بہترین طالب علم کی نشانی ہے۔ وہ استاد کی باتوں کو غور سے سنتا ہے، دوران درس سستی اور کاہلی کو اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتا۔ مثالی طالب علم سبق سے متعلق استاذ سے سوالات پوچھ کر اپنے شکوک کو دور کرتا ہے۔ وہ اپنے الفاظ میں سبق کا خلاصہ تیار کرتا ہے۔ اہم نکات اور معلومات کو نوٹس کی شکل میں تحریر کرتا ہے۔ مشکل بحثوں کا بار بار مطالعہ کرتا ہے۔ خود سے سوالات کرتا ہے اور ان کے جوابات تلاش کرتا ہے۔ وہ محنت، لگن اور خلوص سے پڑھائی کرتا ہے اور امتحانات کے ایام اس کے لیے عام دنوں کی طرح ہوتے ہیں کیوں کہ وہ ہر وقت امتحان کے لیے تیار رہتا ہے اور اسباق کے مضامین پر وقت اس کے ضبط و کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ 

 تنقیدی سوچ
تنقیدی سوچ ایک بہترین طالب علم کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔ معلومات کا تجزیہ کرنا، حقائق کا جائزہ لینا، مفروضوں پر سوالات اور مختلف نکات و نقطۂ نظر پر غور کرنا جیسے امور ایک اچھے طالب علم کے معمولات میں شامل ہوتے ہیں۔ مضامین و مسائل کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مضامین اور مواد کو رٹنے کے بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ حقیقی اور عملی زندگی میں بھی اس علم کو استعمال کر سکے اور خود کو حقیقی علوم سے وابستہ اور ہم آہنگ کر سکے۔ 

 حوصلہ اور مثبت رویہ
حوصلہ مند اور مثبت رویہ رکھنے والا طالب علم مشکلات کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتا اور ہر حال میں مثبت رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مستقل محنت کرتا ہے اور ناکامی سے سیکھتا ہے۔ وہ مشکلات میں مواقع تلاش کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ناکامی کامیابی کا پہلا زینہ ہے۔ 

 وقت کا نظم و نسق
ایک اچھا طالب علم اپنے وقت کا نظم و نسق جانتا ہے۔ وہ روزانہ کے کاموں کو مناسب طریقے سے ترتیب دیتا ہے اور مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے وقت کو صحیح طریقے سے تقسیم کرتا ہے تاکہ پڑھائی، ہوم ورک، کھیل، اور دیگر سرگرمیوں کے لیے مناسب وقت مل سکے۔ اچھا طالب علم جانتا ہے کہ کاموں کی بے ترتیبی نہ صرف وقت کو ضائع کرتی بلکہ ہمارے مطلوبہ نتائج کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ 

 تعاونی رویہ
بہترین طالب علم اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے میں بھی دلچسپی لیتا ہے۔ وہ دوسروں کو درس سمجھانے اور ان کی مشکلات دور کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔ اس کے اس رویے سے نہ صرف اس کے ساتھیوں کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ اس کی اپنی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور مضامین پر گرفت اور پختگی پیدا ہوتی ہے۔ 

 استاد کا احترام
استاد کا احترام اور ان کی باتوں کو اہمیت دینا ایک بہترین طالب علم کی اہم خصوصیت ہے۔ وہ استاد کی رہنمائی کو اہمیت دیتا ہے اور ان کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ استاد کا احترام کرنا نہ صرف ایک طالب علم کا فرض ہے بلکہ اس کی شخصیت کی تعمیر میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 خود انضباطی
خود انضباطی (سیلف کنٹرول) اور ڈسپلن ایک بہترین طالب علم کی ایک بہترین نشانی ہے۔ وہ اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھتا ہے اور غیر ضروری تفریحات، بے جا خواہشات کی تکمیل سے دور رہتا ہے۔ دوسروں کی لائف اسٹائل (طرز زندگی)، الیکٹرانک آلات، موبائل فونز، آئی پیڈ وغیرہ سے متاثر نہیں ہوتا وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مستقل محنت کرتا ہے اور اپنی زندگی کو منظم طریقے سے گزارتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تفریح، فلمی ویڈیوز، چیٹنگ وغیرہ میں وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ انہیں مثبت معلومات کے حصول کے لیے بقدرِ ضرورت استعمال کرتا ہے۔

تلاوت، دعا و استغفار
مثالی طالب علم کے لیے قرآن کریم کی تلاوت، دعاؤں کا اہتمام اور گناہوں سے استغفار کرنا نہایت اہم ہے، کیوں کہ تلاوت سے روح کو غذا، ذہن کو تازگی ملتی ہے۔ دعا ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور اللہ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ دعا کے ذریعے طالب علم اپنی مشکلات، امتحانات، اور دیگر مسائل کے حل کے لیے اللہ سے مدد طلب کر سکتا ہے۔ 

نماز کی پابندی
نماز اللہ سے قربت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک مثالی طالب علم کو پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے اور نماز میں اللہ سے اپنی پڑھائی اور دیگر معاملات میں کامیابی کی دعا کرنی چاہیے۔

 نتیجہ
بہترین طالب علم کی یہ خصوصیات اسے نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیاب بناتی ہیں بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں کرتی ہیں۔ ایسے طلبہ معاشرے کے لیے ایک نمونہ ہوتے ہیں اور ان کی کامیابی دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنتی ہے۔ ایک بہترین طالب علم بننے کے لیے ان تمام خصوصیات کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایک کامیاب زندگی گزار سکیں۔

Learning English Expressions (1)


Lesson No. 1

Different Forms of Subjects

آج کے سبق میں ہم تین طرح کے جملوں کی مشق کریں گے:

پہلا جملہ: احمد کو اسکول جانا ہے۔  Ahmad has to go to school.

دوسرا جملہ: اس لڑکے سے لکھا  نہیں جاتا۔     That boy is not able to write.

تیسرا جملہ: احمد کی کتابیں مہنگی ہیں۔ The books of Ahmad are expensive.

·                   جملوں میں فاعل (subject)  کو معلوم کرنا اہم ہوتا ہے اور اسی کے مطابق جملے بنتے ہیں، اگر فاعل  (subject) کی تعیین صحیح نہیں ہوئی تو جملے کی تشکیل غلط ہو سکتی ہے۔

اب نیچے کے جملوں میں فاعل متعین کرکے جملے بناتے ہیں: 

پہلی شکل  (1)

(1)          احمد کو اسکول جانا ہے۔ (احمدکو)Ahmad has to go to school.

(2)          مجھے سبزیاں خریدنی ہیں۔ (مجھے) I have to buy vegetables.

(3)          استاذ کو سبق پڑھانا ہے۔ (استاذکو)Teacher has to teach lesson.

(4)          فاطمہ کو ڈاکٹر سے ملنا ہے۔ (فاطمہ کو) Fatima has to see the doctor.

(5)          ہم سب کو انگریزی سیکھنی ہے۔ (ہم سب کو) We have to learn English.

(6)          والد کو دوکان کھولنی ہے۔ (والد کو) Father has to open the shop.

(7)          والدہ کو کھانا بنانا ہے۔ (والدہ کو) Mother has to cook food.

(8)          مجھے دس بجے سو جانا ہے۔ (مجھے) I have to sleep at 10 o’clock.

(9)          مہمانوں کو سفر کرنا ہے۔ (مہمانوں کو) The guests have to go on journey.

(10)   ان لوگوں کو کرکٹ کھیلنا ہے۔ (ان لوگوں کو) They have to play cricket.

دوسری شکل (2)

(1)          اس لڑکے سے لکھا نہیں جاتا۔ (اس بچے سے)That boy is not able to write.

(2)          مجھ سے کھایا نہیں جاتا۔ (مجھ سے)I am not able to eat.

(3)          فاطمہ سے پڑھا نہیں جاتا۔ (فاطمہ سے)Fatima is not able to read.

(4)          احمد سے کھیلا نہیں جاتا ۔ (احمد سے)Ahmad is not able to play.

(5)          اس بوڑھے سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ (اس بوڑھے سے)That old man is not able to stand.

(6)          حامد سے بولا نہیں جاتا۔ (حامد سے)Hamid is not able to speak.

(7)          بچوں سے دوڑا نہیں جاتا۔ (بچوں سے)Children are not able to run.

(8)          پولیس سے چور پکڑا نہیں جاتا۔ (پولیس سے)Police is not able to catch thief.

(9)          اس سے میچ کھیلا نہیں جاتا۔ (اس سے)He is not able to play match.

(10)   غریب سے بل ادا نہیں کیا جاتا۔ (غریب سے)The poor is not able to pay the bill.

تیسری شکل (3)

(1)                   اس ملک کے نیتا بدعنوان  ہیں۔ (اس ملک کے نیتا)

The leaders of this country are corrupt

(2)                   اس کتاب کے اسباق آسان ہیں۔ (اس کتاب کے اسباق)

 The lessons of this book are easy.

(3)                   اس باغ کے پیڑ لمبے ہیں۔ (اس باغ کے پیڑ)

The trees of that garden are tall.

(4)                   تمھارے گھر کے کمرے چھوٹے ہیں۔ (تمھارے گھرکے کمرے)

The rooms of your house are small.

(5)                   کتاب کا رنگ ہرا ہے۔ (کتاب کا رنگ)

The colour of the book is green.

(6)                   کار کی رفتار تیز ہے۔ (کار کی رفتار)

The speed of the car is fast.

(7)                   شہر کے لوگ خوش ہیں۔ (شہر کے لوگ)

The people of the city are happy.

(8)                   مکان کی قیمت زیادہ ہے۔ (مکان کی قیمت)

The price of the house is high.

(9)                   اسکول کی کرسیاں پرانی ہیں۔ (اسکول کی کرسیاں)

The chairs of the school are old.

(10)            بھارت کی راجدھانی دلی ہے۔ (بھارت کی راجدھانی)

The capital of India is Delhi.

 


Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

Ranks of spiritual progress are quickly traversed through grief.

In response to a letter, he wrote: 

The duration of my displeasure is very short. After some time, it weakens, and with a little apology, it completely disappears. 

It was mentioned in the letter: "I am in great distress and sorrow." 

I replied that it is the sorrow that actually serves the purpose. The ranks of spiritual progress are traversed much faster through grief than through struggle. This is a point worth remembering.

Malfoozat Hakim-ul-Ummah: Volume 1, Page 38

मलफ़ूज़ात हकीमुल उम्मत हज़रत थानवी

हुज़्न (ग़म) से मरातिब-ए-सलूक (तसव्वुफ के मर्तबे) तेज़ी से तय होते हैं।

एक ख़त के जवाब में तहरीर फ़रमाया कि मेरे तकद्दुर (अप्रसन्नता) की उम्र बहुत कम होती है। कुछ वक़्त गुज़र जाने पर ज़ईफ़ (कमज़ोर) हो जाता है। और थोड़ी सी माज़रत (माफी) के बाद बिल्कुल ही फ़ना (ख़त्म) हो जाता है। 
फ़रमाया कि इस ख़त में लिखा है कि मुझ को बड़ा रंज है, बड़ा हुज़्न (ग़म) है। 

मैंने जवाब लिखा है कि हुज़्न (ग़म) ही तो काम बनाता है। हुज़्न (ग़म) से जिस क़दर सुलूक (तसव्वुफ) के मरातिब (दर्जे) तय होते हैं, मुजाहिदे (तपस्या) से इस क़दर जल्द तय नहीं होते। यह बात याद रखने के क़ाबिल है।

मल्फ़ूज़ात हकीमुल उम्मत: भाग 1, पृष्ठ 38

ملفوظات حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ


حُزن سے مراتبِ سلوک تیزی سے طے ہوتے ہیں

ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا کہ میرے تکدّر کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔ کچھ وقت گزر جانے پر ضعیف ہو جاتا ہے۔ اور تھوڑی سی معذرت کے بعد بلکل ہی فنا ہو جاتا ہے ۔ 
فرمایا کہ اس خط میں لکھا ہے کہ مجھ کو بڑا رنج ہے ، بڑا حُزن ہے۔ 
میں نے جواب لکھا ہے کہ حُزن ہی تو کام بناتا ہے ۔ حزن سے جس قدر سلوک کے مراتب طے ہوتے ہیں ، مجاہدہ سے اس قدر جلد طے نہی ہوتے ۔ یہ بات یاد رکھنے کہ قابل ہے۔

ملفوظات حکیم المت رح: جلد 1 ص 38

मलफ़ूज़ात हकीमुल उम्मत हज़रत थानवी

मल्फ़ूज़ात हकीमुल उम्मत हज़रत मौलाना अशरफ़ अली थानवी रहमतुल्लाहि अलैहि 

अपनी फ़िक्र करनी चाहिए

एक साहब ने कोई मसला पेश करके अर्ज़ किया कि फलां साहब ने यह दरयाफ़्त (मालूम) किया है। उनकी हालत के मुनासिब फ़रमाया कि ख़ुद आपको जो ज़रूरत हो उसको मालूम कीजिए, दूसरों के मामलात में नहीं पड़ना चाहिए। बड़ी ज़रूरत इस की है कि हर शख़्स (व्यक्ति) अपनी फ़िक्र में लगे और अपने आमाल (कामों) की इस्लाह (सुधार) करे। आजकल यह मर्ज़ (बीमारी) आम हो गया है, आवाम (जनता) में भी और ख़वास (ख़ास लोगों) में भी कि दूसरों की तो इस्लाह (सुधार) की फ़िक्र है अपनी ख़बर नहीं। मेरे मामूं साहब फ़रमाया करते थे कि बेटा, दूसरों की जूतियों की हिफाज़त (रक्षा) की बदौलत कहीं अपनी गठरी न उठवा देना, वाक़ई बड़े काम की बात फ़रमाई।

मल्फ़ूज़ात हकीम-उल-उम्मत: भाग 1, पृष्ठ 26

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

Malfoozat Hakim-ul-Ummat Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanvi

Focus on Yourself

Someone presented an issue and mentioned that a certain person had inquired about it. In response, according to their state, he advised:

One should focus on what is necessary for oneself and not get involved in others' matters. The most important thing is that every person should focus on his own concerns and work on improving his own deeds. Nowadays, it has become a widespread problem among both the general public and the elite that they are more concerned with correcting others than themselves. My uncle used to say, "Son, while protecting others' shoes, make sure you don't lose your own bundle." Truly, he gave very wise advice.

Malfoozat Hakim-ul-Ummat: Volume 1, Page 26

Malfoozat Hakimul-Ummah Hazrat Thanvi

ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ

اپنی فکر کرنی چاہئے

ایک صاحب نے کوئی مسئلہ پیش کر کے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے یہ دریافت کیا ہے ، ان کی حالت کے مناسب فرمایا کہ خود آپ کو جو ضرورت ہو اس کو معلوم کیجئے ، دوسروں کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ بڑی ضرورت اس کی ہے کہ ہر شخص اپنی فکر میں لگے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرے ۔ آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے عوام میں بھی اور خواص میں بھی کہ دوسروں کی تو اصلاح کی فکر ہے اپنی خبر نہیں ، میرے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ، واقعی بڑے کام کی بات فرمائی۔

ملفوظات حکیم الامت: جلد 1 ص 26

Al-Huda Classes

فکر وعمل کا توازن: شروع اور پختگی

فکر و عمل کا توازن: شعور اور پختگی شمس الہدیٰ قاسمی انسانی زندگی محض سانس لینے اور روز و شب گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ مسلسل سیکھنے اور ارت...