Search This Blog

اچھے استاذ کی خصوصیات

اچھے استاذ کی خصوصیات

شمس الہدی قاسمی
جامعہ اشاعت العلوم، اکل کوا، مہاراشٹر 

اچھا استاد بننے کے لیے کئی خصوصیات اور اصولوں کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ یہاں چند اہم نکات دیے جا رہے ہیں جو آپ کو ایک مؤثر اور کامیاب استاد بننے میں مدد کریں گے:

1. علم اور مہارت:
گہرا علم: اپنے مضمون میں گہرا علم حاصل کریں، موضوع سے متعلق کتابوں کا پابندی سے مطالعہ کریں تاکہ آپ طلباء کو بہتر طریقے سے مضامین سمجھا سکیں۔

مسلسل سیکھنا: سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی، بدلتے زمانے کے ساتھ تعلیمی میدان میں بدلتی ٹکنالوجی اور جدید آلات سے واقفیت ضروری ہے۔ علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ خود کو بھی اپڈیٹ رکھیں۔

2. تدریسی مہارت:
منظم ہونا: وقت کی پابندی کریں اور طلبہ کو بھی پابند بنائیں۔ اپنے تدریسی مواد کو منظم طریقے اور ترتیب کے ساتھ پیش کریں۔ طلبہ کے لیے اسے سہل سے سہل تر بنانے کی کوشش کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درجے میں موجود کمزور ترین طالب علم بھی مضمون کو اچھی طرح سمجھ گیا ہے۔

تدریسی تکنیک: مختلف تدریسی تکنیکوں کا استعمال کریں جیسے کہ گروپ ورک، سوال و جواب، پریزنٹیشنز وغیرہ۔ اس سے طلبہ میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور ان مضمون سے متعلق ان کے شکوک وشبہات دور ہوجاتے ہیں۔ 

3. طلباء کے ساتھ تعلقات:
دوستانہ رویہ: طلباء کے ساتھ دوستانہ اور مشفقانہ رویہ اختیار کریں اور ان کے ساتھ احترام سے پیش آئیں۔ مہذب اور شائستہ زبان کا استعمال کریں۔ 
حوصلہ افزائی: طلباء کی کامیابیوں کو تسلیم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ حوصلہ شکنی اور دل شکنی نہ کریں کیوں کہ بچے کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کا ایک جملہ اس کی زندگی میں نقطۂ انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔ 
 4. موٹیویشن اور انسپرین:
موٹیویٹ کرنا: طلباء کو ان کی تعلیم میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے موٹیویٹ کریں۔ انہیں کامیاب لوگوں کے واقعات سنائیں اور ناکامیوں سے لڑنا سکھائیں۔ گِر گِر کر اٹھنا اور اٹھ اٹھ کر چلنا سکھائیں، انہیں خواب دیکھنا سکھائیں اور سمجھائیں کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو نیند میں سوکر دیکھے جاتے ہیں بلکہ خواب وہ ہوتے ہیں جو انسان کو سونے نہیں دیتے۔ 
رول ماڈل: خود کو ایک مثبت رول ماڈل کے طور پر پیش کریں۔ اپنے اچھے اخلاق و اعمال اور پابندی وقت سے اپنے طلباء پر گہرے اور مثبت اثرات چھوڑیں۔ آپ کے طلباء آپ کو مثالوں میں پیش کریں۔ 

5. مؤثر کمیونیکیشن:
واضح ہدایات: اپنی ہدایات اور تعلیمات کو واضح اور آسان زبان میں بیان کریں۔ کلاس کے اصول و ضوابط متعین کریں اور طلباء کو ان پر عمل کرنے کا پابند بنائیں۔ 

سماعت کرنا: طلباء کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان کی پریشانیوں کو حل کریں۔ بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں طالب علم دوستوں اور ساتھیوں کے سامنے پیش کرنے میں جھجک محسوس کرتا ہے اس لیے کلاس کے باہر تنہائی میں بھی طلبہ کے مسائل سننے کی کوشش کریں۔ کسی بات پر طالب علم کا مذاق نہ اڑائیں۔ انہیں غلط اور غیر مہذب ناموں سے نہ پکاریں۔ 

6. صبر اور برداشت:
صبر: صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں، خاص طور پر جب طلباء کو کسی چیز کو سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہو۔
تحمل: طلباء کی مختلف صلاحیتوں اور رفتار کو قبول کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

7. تشخیص اور فیڈبیک:
مناسب تشخیص: طلباء کی کارکردگی کا منصفانہ انداز میں جائزہ لیں۔ جانب داری سے کام نہ لیں۔ 
تعمیری فیڈبیک: طلباء کو تعمیری فیڈبیک فراہم کریں تاکہ وہ اپنی خامیوں کو دور کر سکیں۔ اور اپنے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اپنی محنت اور لگن کو صحیح رخ پر ڈال سکیں۔

8. پروفیشنل ڈیولپمنٹ:
تربیتی پروگرامز: مختلف تربیتی پروگرامز اور ورکشاپس میں شرکت کریں تاکہ تعلیمی میدان میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا علم ہوسکے اور خود کو اس سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرسکیں۔ 
پڑھائی: تدریس کے بارے میں مختلف کتابیں اور آرٹیکلز پڑھیں تاکہ آپ کی تدریسی مہارت میں نکھار آ سکے۔ لکھنے کا شوق اور صلاحیت ہو تو اخبارات، رسالوں اور میگزین کے لیے مضامین لکھیں۔

9. طلباء کی دلچسپی:
دلچسپ مواد: اپنے مواد کو دلچسپ اور متنوع بنائیں تاکہ طلباء کی دلچسپی برقرار رہے۔ 
انٹرایکٹو کلاسز: انٹرایکٹو کلاسز کا انعقاد کریں جس میں طلباء کی شمولیت زیادہ ہو۔

 10. نظم و ضبط:
ضبط کی ضرورت: کلاس میں نظم و ضبط کو برقرار رکھیں تاکہ تعلیم کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
اصول: کلاس کے اصول و ضوابط واضح طور پر بیان کریں اور ان کی پابندی کرائیں۔

اچھا استاد بننے کے لیے ان تمام اصولوں کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ اپنے طلباء کے ساتھ مثبت اور مددگار رویہ اپنانا اور مسلسل خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا آپ کو ایک کامیاب اور مؤثر استاد بنا سکتا ہے۔

Daily English Phrase

keep the ball rolling
کام کو جاری رکھنا
We realised we would need outside funding to keep the ball rolling.
ہم نے محسوس کیا کہ کام کو جاری رکھنے کے لیے ہمیں بیرونی فنڈز کی ضرورت ہوگی۔
#hudaqasmi #alhudaclasses #englishvocabulary #english #easyenglish #learn #learning #letslearnenglish #onlinelearning #urduenglish #urdu @hudaqasmi

Daily English Phrases

set an example
مثال قائم کرنا

You should be setting a good example to your younger brother.

آپ کو اپنے چھوٹے بھائی کے لیے اچھی مثال قائم کرنی چاہیے۔

#hudaqasmi #alhudaclasses #dailyphrase #dailyidioms #englishvocabulary #english #easyenglish #urduenglish #urdu 
@hudaqasmi @alhuda_classes

Daily English Phrases

hit the headlines
اچانک خبروں میں آنا/ توجہ حاصل کرنا
He hit the headlines two years ago when he was arrested for selling drugs.

وہ دو سال پہلے اس وقت سرخیوں میں آیا جب اسے منشیات فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

#hudaqasmi #alhudaclasses #dailyphrase #dailyidioms #englishvocabulary #english #easyenglish #urduenglish #urdu @alhuda_classes @hudaqasmi

Daily English Phrase/Idiom

slip through your fingers
ہاتھ سے نکل جانے دینا، گنوا دینا، کھو دینا
We don't want to let the opportunity slip through our fingers.
ہم موقع کو اپنے ہاتھوں سے نکل جانے دینا نہیں چاہتے ہیں۔


Daily English Phrase/Idiom

throw (pour) cold water on
ہمت شکنی کرنا/(منصوبے) پر پانی پھیر دینا
The current pandemic poured cold water on our plan to visit Dubai.
حالیہ وبا نے ہمارے دبئی جانے کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ 

#hudaqasmi #alhudaclasses #dailyphrase #dailyidioms #englishvocabulary #english #easyenglish #urduenglish #urdu #learnenglish #learn #word @hudaqasmi @alhuda_classes

Daily English Phrase/Idiom

take a swipe at
تنقید کرنا، نکتہ چینی کرنا، گھماکے مارنا
The Congress leader took a swipe at the Prime Minister.
کانگریسی رہنما نے وزیراعظم کی تنقید کی/ نکتہ چینی کی۔
#hudaqasmi #alhudaclasses #dailyphrase #dailyidioms #englishvocabulary #english #easyenglish #urduenglish #urdu @hudaqasmi @alhuda_classes


Daily English Phrase/Idiom

go up in smoke
ضائع ہونا، ناکام ہونا، آگ سے تباہ ہونا

When the business went bankrupt, twenty years of hard work went up in smoke.
جب تجارت دیوالیہ ہوگئی، تو محنت کے بیس سال ضائع ہوگئے۔

#hudaqasmi #alhudaclasses #dailyphrase #dailyidioms #englishvocabulary #english #easyenglish #urduenglish #urdu @alhuda_classes @hudaqasmi

Daily English Phrase/Idiom

Today's Phrase: (1)

In broad daylight
دن دہاڑے/ دن کے اجالے میں

The robbery occurred in broad daylight.
ڈکیتی دن دہاڑے/ دن کے اجالے میں پیش آئی۔ 

#dailyphrase
#LearnEnglish
#hudaqasmi
#DailIdioms
#UrduEnglish
#alhuda_classes

Learning English Expressions (3)

 

Lesson No. 3

فاعل کی مزید شکلیں:

جب فاعل مصدر ہو توجملے کی ساخت  کچھ یوں  ہوتی ہے:

Infinitive to + verb + adjective/ noun.

Gerund + verb + adjective + noun.

·               ان فنی ٹیو (infinitive) مصدر کوکہتے ہیں۔(فعل کی وہ بنیادی شکل جس سے فاعل اور زمانہ وغیرہ ظاہر نہ ہو، جیسے:

We came to see him. Let him see.

ان جملوں میں سی (see) ان فنی ٹیو (infinitive) ہے۔

·               جیرنڈ (gerund) مصدر کی ایک شکل ہے جس کے آخر میں آئی این جی (ing) ہو اور بطور اسم استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے:

Playing is useful.

اس جملے میں پلے انگ (playing) جیرنڈ (gerund)ہے۔

 اب جملے دیکھتے ہیں:

جھوٹ بولنا گناہ ہے۔

To tell lies is a sin.

Telling lies is a sin.

صبح سویرے اٹھنا مفیدہے۔

To wake up early is useful.

Waking up early is useful.

سڑک پر دوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔

To run on the road is not good.

Running on the road is not good.

گاڑی چلانا آسان ہے۔

To drive a car is easy.

Driving a car is easy.

سفر کرنا مشکل ہے۔

To travel is difficult.

Travelling is difficult.

ان جملوں کو ہم اس طرح بھی تشکیل دے سکتے ہیں:

It + is/was + adjective/noun + infinitive.

جھوٹ بولنا گناہ ہے۔

It is a sin to tell lies.

صبح سویرے اٹھنا مفیدہے۔

It is useful to wake up early.

سڑک پر دوڑنا ٹھیک نہیں تھا۔

It was not good to run on the road.

گاڑی چلانا آسان ہے۔

It is easy to drive a car.

سفر کرنا مشکل تھا۔

It was difficult to travel.

Learning English Expressions (2)

 

Lesson No. 2

This, That, These, Those

This (واحد)    یہ        these (جمع)    یہ سب        

That (واحد)   وہ        those (جمع)    وہ سب

·               دس (this) قریب اشارے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

·               دیٹ (that) بعید اشارے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اب ہم ان کو جملوں میں استعمال کرتے ہیں:

Thisیہ (واحد)

This is a book. یہ ایک کتاب ہے۔

This book is interesting. یہ کتاب دل چسپ ہے۔

Do you like this book? کیا آپ اس کتاب کو پسند کرتے ہیں۔

Yes, I like this book. جی، میں اس کتاب کو پسند کرتا ہوں۔

Why do you like this book? آپ اس کتاب کو کیوں پسند کرتے ہیں؟

I like this book because it is useful. میں اس کتاب کو پسند کرتا ہوں کیوں کہ یہ مفید ہے۔

Theseیہ سب (جمع)

These are shops. یہ دکانیں ہیں۔

These shops are beautiful. یہ سب دکانیں خوب صورت ہیں۔

Do they like these shops? کیا وہ سب ان دکانوں کو پسند کرتے ہیں؟

Yes, they like these shops. جی، وہ سب ان دکانوں کو پسند کرتے ہیں۔

How are these shops? یہ سب دکانیں کیسی ہیں؟

These shops are beautiful. یہ سب دکانیں خوب صورت  ہیں۔

That وہ (واحد)

That is my car. وہ میری کار ہے۔

That car is expensive. وہ کار مہنگی ہے۔

Do you like that car? کیا آپ اس کار کو پسند کرتے ہیں؟

Yes, I like that car. جی، میں اس کار کو پسند کرتا ہوں۔

When did you buy that car?آپ نے وہ کار کب خریدی؟

I bought that car yesterday.میں نے وہ کار کل خریدی۔

Those وہ سب (جمع)

Those are students. وہ سب طالب علم ہیں۔

Those students are hardworking. وہ سب طالب علم محنتی ہیں۔

Do you teach those students?کیا آپ ان سب طالب علموں کو پڑھاتے ہیں؟

No, I don’t teach those students. نہیں، میں ان سب طالب علموں کو نہیں پڑھاتا ہوں۔

Where are those students going?وہ سب طالب علم کہاں جا رہے ہیں؟

Those students are going to school. وہ سب طالب علم اسکول جا رہے ہیں۔

 

 

 

English Learning Series (66)

سبق نمبر :
66

Lesson No: 66

Direct and Indirect Speech: Command and Request

روایت باللفظ اور روایت بالمعنی:جملہ حکمیہ اور درخواست

·  جملہ حکمیہ اور درخواست کو ڈائریکٹ اسپیچ (Direct speech)سے ان ڈائریکٹ (Indirect speech ) میں تبدیل کرنے صورت میں حکم اور درخواست کا معنی بیان کرنے والے افعال کو رپورٹنگ ورب (Reporting verb) بنایا جاتا ہے، جیسے:  command, request, order, advise, suggest  وغیرہ۔

·               اور جملے کی حکمی صورت (Imperative Mood) مصدر (infinitive) میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔ یعنی مقولے(reported speech) کے فعل میں ٹو(to) لگا دیا جاتا ہے۔

·               اورمنفی جملے(negative sentences)  میں ڈو ناٹ (do not) کی جگہ پر ناٹ ٹو(not to) کا استعمال کیا جاتا ہے۔  

مثالیں:

Ahmad said to Hamid, “Go to school.”

Ahmad ordered Hamid to go to school.

The teacher said, “Don’t play in the class.”

The teacher ordered the student not to play in the class.

He said to him, “Please help my brother.”

He requested him to help his brother.

The teacher said, “Write your name here.”

The teacher ordered them to write their name there.

He said to me, “Let me go now.”

He requested me to let him go then.

He said, “Be quiet and listen to me.”

He requested them to be quiet and listen to him.

·               جملہ تعجب اور دعا کو ڈائریکٹ اسپیچ (direct speech)سے ان ڈائریکٹ اسپیچ (indirect speech) میں تبدیل کرنے کی صورت میں تعجب، حیرت دعا اور تمنا  کوظاہر کرنے والے افعال کو رپورٹنگ ورب بنایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ احساس کے مطابق الفاظ لائے جاتے ہیں۔ جیسے: exclaim sadly, wonder with joy, applaud   وغیرہ۔

·               جملے میں  استعجاب کے نشان کی جگہ پر فل اسٹاپ (.) استعمال کیا جاتا ہے۔ اور کن جنکشن دیٹ (that)  کا استعمال کرتے ہیں۔   

مثالیں:

He said, “Alas! I am ruined.”

He exclaimed sadly that he was ruined.

Ahmad said, “How clever I am!

Ahmad exclaimed that he was very clever.

They said, “Hurrah! They won the game.”

They exclaimed with joy that they had won the game.

The teacher said, “Bravo! You have done well.”

The teacher applauded him saying that he had done well.   

English Learning Series (65)

 

سبق نمبر : 65

Lesson No: 65

Direct and Indirect Speech: Question

روایت باللفظ اور روایت بالمعنی: سوالیہ جملہ

یاد رکھیں کہ سوالیہ جملے دو طرح سے تشکیل پاتے ہیں:

(1) سوالیہ جملہ سوالیہ لفظ (Question Words)سے بنایا جائے، جیسے:

What is your name? Where are you going?

(2) سوالیہ جملہ معاون فعل (Auxiliary verb) سے بنایا جائے، جیسے:

Is your name Hamid? Will you help me?

·               سوالیہ جملے کو indirect  میں تبدیل کرنے کی صورت میںask, inquire وغیرہ  جیسے افعال  کو رپورٹنگ ورب بنایا جاتا ہے، اور جملے کی سوالیہ حالت کو خبریہ حالت میں تبدیل کر دیا جاتا ہےاور حرف ربط (That) کو استعمال نہیں کرتے۔

·               اگر سوالیہ جملہ سوالیہ لفظ کے بجائے معاون فعل سے شروع ہورہا ہو، تورپورٹنگ ورب کے بعد whether  یا if   لاتے ہیں، اور کن جنکشن دیٹ (that) کا استعمال نہیں کرتے،  دونوں سوالیہ جملوں کی مثالیں ملاحظہ کریں:

سوالیہ جملہ سوالیہ لفظ (question word) کے ساتھ:

He said to me, “What is your name?”

He asked me what my name was.

سوالیہ جملہ معاون فعل (verb auxiliary)کے ساتھ:

He said to me, “Is your name Hamid?”

He asked me whether/if my name was Hamid.

مشق کے لیے چند جملے:

He said to me, “What are you writing?”

He asked me what I was writing. (Indirect)

Hamid asked me, “Where do you study?”

Hamid enquired me where I studied. (Indirect)

The teacher said to us, “Where are you going now?”

The teacher enquired where we were going then. (Indirect)

He said to them, “Will you play the match?”

He asked them whether/if they would play the match. (Indirect)

Ahmad said to Hamid, “Do you drive the car?”

Ahmad asked Hamid whether/if Hamid drove the car. (Indirect)

Al-Huda Classes

علماء کی تین اقسام

*علماء کی تین اقسام* *علم اور علماء کا مقام: بصیرت یا مفاد پرستی؟* علم انبیاء کی میراث ہے، اور علماء اس میراث کے امین۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد ف...