Search This Blog

علماء کی تین اقسام

*علماء کی تین اقسام*
*علم اور علماء کا مقام: بصیرت یا مفاد پرستی؟*

علم انبیاء کی میراث ہے، اور علماء اس میراث کے امین۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے میراث میں نہ دینار چھوڑا نہ درہم، بلکہ انہوں نے علم کی میراث چھوڑی، پس جس نے اسے حاصل کیا اس نے بھرپور حصہ پایا" (سنن ابی داود، حدیث نمبر ۳۶۴۱؛ جامع ترمذی، حدیث نمبر ۲۶۸۲، از حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ)۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ علم کوئی عام پیشہ نہیں بلکہ نبوت کا تسلسل ہے، اور جو اس امانت کا وارث بنتا ہے اس پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔

لیکن جس دن سے علم کا رشتہ اقتدار، شہرت اور مفاد سے جڑا، اسی دن سے علماء کی صفوں میں ایک خاموش تقسیم شروع ہو گئی۔ آج جب فتاویٰ کا بازار گرم ہے، ہر چینل پر ایک نیا "مفتی" اور ہر محفل میں ایک نیا "عالم" موجود ہے، تو ایک عام مسلمان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ وہ اپنا دین کس سے سیکھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں علماء کی تین اقسام کو سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے: عَالِمُ الدَّوْلَة (حکومت کا عالم)، عَالِمُ الْأُمَّة (عوام کا عالم)، اور عَالِمُ الْمِلَّة (دین کا عالم)۔ یہ تقسیم محض اصطلاحی نہیں بلکہ ایک ایسا معیار ہے جس سے ہر دور میں علم کی صداقت اور کھوٹ کو پرکھا جا سکتا ہے۔

*پہلی قسم: عَالِمُ الدَّوْلَة — حکومت کا عالم*

یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے علم کو اقتدار کے ایوانوں کے تابع کر دیتا ہے۔ اس کے نزدیک دین کی سچی تعبیر سے زیادہ حکمرانوں کی رضا اہم ہوتی ہے۔ اس کا قلم اور زبان دونوں اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ حاکمِ وقت کیا سننا چاہتا ہے، نہ کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے۔

*طرزِ عمل*

اس کا بنیادی ہنر یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر پالیسی، ہر فیصلے اور بسا اوقات ظلم کے لیے بھی شرعی جواز تراش لے۔ فتویٰ اس کے ہاں نتیجہ نہیں بلکہ آلہ ہوتا ہے — پہلے سے طے شدہ نتیجے تک پہنچنے کا ذریعہ۔ حق و باطل کی میزان اس کے پاس نہیں، اقتدار کی خوشنودی اس کا معیار ہے۔ جب حکومت کا رخ بدلتا ہے تو اس کا فتویٰ بھی بدل جاتا ہے، حالانکہ شریعت کا حکم کبھی حالات کے تابع نہیں ہوتا۔

*قرآنی و نبوی زاویہ*

اسی رویے کے برعکس نبی کریم ﷺ نے سچ کہنے کی سب سے بلند مثال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: "افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے" (سنن ابی داود، حدیث نمبر ۴۳۴۴؛ جامع ترمذی، حدیث نمبر ۲۱۷۴؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ۴۰۱۱، از حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ)۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عالم کا اصل مقام حکمران کے سامنے حق کی گواہی دینا ہے، نہ کہ اس کی خواہشات کو دینی چوغہ پہنانا۔ جو عالم اس فریضے سے پہلو تہی کرتا ہے وہ دراصل نبوی منصب سے انحراف کرتا ہے۔

*معاشرتی نقصان*

اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام کا اعتماد علم اور علماء دونوں سے اٹھ جاتا ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ دین کی تشریح اقتدار کے مفاد سے جڑی ہوئی ہے تو وہ دین سے ہی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے ایسے علماء سے علم حاصل کرنے سے سختی سے منع فرمایا، کیونکہ ان کا علم روشنی نہیں، سیاسی آلہ بن چکا ہوتا ہے۔ ایسا عالم بظاہر بلند مناصب پر فائز نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ علم کی امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔

*دوسری قسم: عَالِمُ الْأُمَّة — عوام کا عالم*

اگر پہلی قسم اقتدار کی غلام ہے تو یہ قسم بھیڑ کی غلام ہے۔ یہ عالم حق و باطل کا فیصلہ کتاب و سنت سے نہیں بلکہ عوامی مقبولیت کے پیمانے سے کرتا ہے۔ اس کا سوال یہ نہیں ہوتا کہ "اللہ نے کیا فرمایا؟" بلکہ یہ ہوتا ہے کہ "لوگ کیا سننا پسند کریں گے؟"

*طرزِ عمل*

یہ عالم مقبولیت کی بھوک میں سچ کو نرم، مبہم اور خوش کن بنا دیتا ہے۔ سخت شرعی احکام پر خاموشی، جذباتی نعروں کی بھرمار، اور عوامی مزاج کے مطابق فتویٰ سازی اس کا وتیرہ بن جاتا ہے۔ وہ تنقید سے اس لیے گریز کرتا ہے کہ کہیں اس کی مقبولیت متاثر نہ ہو جائے، حالانکہ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا ہے کہ لوگوں کے خوف سے حق چھپانا جائز نہیں: "تم میں سے کوئی اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھے کہ وہ کوئی ایسا معاملہ دیکھے جس میں اللہ کے لیے بات کہنی ہو، پھر وہ نہ کہے، تو قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس چیز نے فلاں بات کہنے سے روکا؟ وہ کہے گا: لوگوں کا خوف، تو اسے کہا جائے گا: میں ہی زیادہ حق دار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا" (مسند احمد؛ سنن ابن ماجہ، از حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ)۔

*معاشرتی نقصان*

اس رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بدعات، رسومات اور خرافات کو دینی جواز مل جاتا ہے، کیونکہ کوئی بھی ان پر انگلی اٹھانے کو تیار نہیں۔ اصلاح کا عمل رک جاتا ہے، اور دین آہستہ آہستہ عوامی مزاج کے تابع ہو کر اپنی اصل شکل کھو دیتا ہے۔ یہ عالم بظاہر لوگوں کا "ہمدرد" نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ ان کی اصلاح کے بجائے ان کی خوشامد کر رہا ہوتا ہے، اور یوں دونوں — عالم اور عوام — ایک دوسرے کی گمراہی میں شریک ہو جاتے ہیں۔

*تیسری قسم: عَالِمُ الْمِلَّة — دین کا عالم*

یہ وہ سچا اور نڈر عالم ہے جو انبیاء کے حقیقی وارث کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس کا محور نہ اقتدار ہے نہ عوام، بلکہ صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ ہے۔

*طرزِ عمل*

یہ عالم بغیر کسی خوف یا مصلحت کے سچ بیان کرتا ہے، چاہے وہ حاکم کو ناگوار گزرے یا عوام کو۔ اس کے فتاویٰ کا سرچشمہ دلیل ہے، مقبولیت یا مفاد نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی ذمہ داری امانتِ علم کی حفاظت ہے، نہ کہ کسی کو خوش کرنا۔

*نمایاں صفت اور قرآنی حوالہ*

اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں ایسے ہی مومنوں کی صفت بیان فرمائی ہے:
"يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ"
"وہ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے" (سورۃ المائدہ، آیت ۵۴)۔

مفسرین نے اس آیت کی وضاحت میں لکھا ہے کہ ایسے لوگوں کو کوئی چیز اللہ کی اطاعت، حق کی گواہی اور نیکی کے حکم سے نہیں روک سکتی — نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت، نہ کسی طاقتور کا دباؤ۔ امام سعدی رحمہ اللہ نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ ایسے لوگ اپنے رب کی رضا اور اس کی ناراضگی کے خوف کو مخلوق کی ملامت پر مقدم رکھتے ہیں، اور یہی چیز ان کے عزم و ہمت کی مضبوطی کی دلیل ہے، جبکہ کمزور دل والا شخص لوگوں کی ملامت پر اپنا عزم توڑ بیٹھتا ہے۔

نہ حکومت کا غضب ایسے عالم کو جھکا سکتا ہے، نہ عوام کی ناراضگی اسے خوفزدہ کر سکتی ہے۔ یہی وہ علماء ہیں جن کے بارے میں حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ وہ انبیاء کے وارث ہیں۔

*معاشرتی کردار*

ایسے علماء معاشرے کے لیے ضمیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اصلاح کرتے ہیں، چاہے اس کی قیمت مقبولیت کی کمی یا حکومتی ناراضگی کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ ان کی موجودگی ہی امت کے دینی توازن کو برقرار رکھتی ہے، اور انہی کی بدولت دین اپنی اصل شکل میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔

*تینوں اقسام کا تقابلی جائزہ*

اگر ان تینوں اقسام کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک واضح فرق سامنے آتا ہے: پہلی دو اقسام کا مشترکہ وصف خوف ہے — ایک اقتدار کے خوف میں مبتلا ہے، دوسری عوامی ناراضگی کے خوف میں۔ دونوں اپنی آزادیِ رائے اسی خوف کے ہاتھوں گروی رکھ دیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کا آقا تخت ہے اور دوسرے کا آقا ہجوم۔ نتیجہ دونوں صورتوں میں یکساں ہے: دین کی حقیقی روح مجروح ہوتی ہے، اور علم، جو رہنمائی کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، مصلحت کا غلام بن جاتا ہے۔

تیسری قسم اس لیے ممتاز ہے کہ اس کا مرکز نہ تخت ہے نہ ہجوم، بلکہ صرف اللہ کی رضا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو عالمِ ملت کو باقی دونوں سے الگ کرتا ہے: وہ کسی سے خوف نہیں کھاتا سوائے اللہ کے، اور یہی صفت اسے سچائی پر قائم رہنے کی طاقت دیتی ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ تینوں اقسام کبھی الگ الگ افراد میں نہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی شخص کے اندر، حالات کے مطابق، مختلف اوقات میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کوئی عالم کسی معاملے میں دین کا سچا وارث ثابت ہو سکتا ہے اور کسی دوسرے معاملے میں مصلحت کا شکار۔ اس لیے یہ تقسیم افراد کی درجہ بندی سے زیادہ رویوں کی نشاندہی کے لیے مفید ہے — تاکہ ہر عالم، اور ہر طالبِ علم، اپنے آپ کو بھی اسی میزان پر پرکھ سکے۔

*تاریخی تناظر*

اسلامی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں علماء نے اقتدار کے سامنے سچ کہنے کی قیمت چکائی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا وہ استقلال جو انہوں نے خلق قرآن کے فتنے میں دکھایا، امام مالک رحمہ اللہ کا وہ موقف جس کی پاداش میں انہیں سزا دی گئی، اور بے شمار دیگر اسلاف کی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ عالمِ ملت بننے کی قیمت کبھی آسان نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، جب بھی کسی دور میں علماء نے حکمرانوں کی خوشنودی کو دین پر مقدم رکھا، تاریخ نے انہیں فراموش کر دیا یا عبرت کی مثال بنا دیا، جبکہ سچ کہنے والوں کے نام آج بھی امت کے دلوں میں زندہ ہیں۔ یہی اصول موجودہ دور میں بھی برابر لاگو ہوتا ہے — چاہے اقتدار کی شکل بادشاہت کی ہو یا جمہوری حکومت کی، اور چاہے عوام کا دباؤ سرِ عام ہو یا سوشل میڈیا کے ہجوم کی صورت میں۔

*عام مسلمان کی ذمہ داری*

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس تقسیم کو سمجھنے کے بعد عام مسلمان کی ذمہ داری کیا بنتی ہے۔ محض علماء پر تنقید کر دینا کافی نہیں، بلکہ خود اپنے رویے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ بسا اوقات عوام خود ایسے علماء کو پروان چڑھاتی ہے جو ان کی مرضی کے مطابق بات کریں، اور سچ کہنے والے عالم سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے دین سیکھنے کا معیار محض عالم کی مقبولیت یا اس کے پیروکاروں کی تعداد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کی بات کا قرآن و سنت سے میل ہونا چاہیے۔ ایک زندہ معاشرہ وہی ہے جو سچ کہنے والوں کی قدر کرے، نہ کہ صرف انہیں پسند کرے جو اس کی خواہشات کی تصدیق کرتے رہیں۔

*عام مسلمان کے لیے پہچان کا معیار*

آج کے دور میں جب سوشل میڈیا پر فتاویٰ اور بیانات کا سیلاب ہے، ایک عام مسلمان کے لیے یہ پہچاننا ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنا دین کس سے سیکھ رہا ہے۔ اس کے لیے چند سادہ سوالات مددگار ہو سکتے ہیں:

- کیا یہ عالم حکمرانوں کی پالیسی بدلنے کے ساتھ اپنا موقف بھی بدل دیتا ہے؟
- کیا یہ عالم عوامی مزاج کے خلاف بات کہنے سے گھبراتا ہے؟
- کیا اس کا موقف ہمیشہ دلیل، قرآن و سنت پر قائم رہتا ہے، چاہے نتیجہ کسی کو بھی ناگوار گزرے؟

حقیقی ہدایت اور صحیح رہنمائی صرف اسی عالم کے پاس مل سکتی ہے جو اقتدار اور عوام دونوں کی خواہشات سے آزاد ہو کر صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر قائم رہے۔ یہی وہ معیار ہے جو ہمیں سچے وارثانِ انبیاء کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے، اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہمیں اپنے اپنے دائرے میں، اپنے علم اور اپنی بات کو بھی پرکھتے رہنا چاہیے۔

*حوالہ جات*
۱۔ سورۃ المائدہ، آیت ۵۴۔
۲۔ سنن ابی داود، حدیث نمبر ۳۶۴۱؛ جامع ترمذی، حدیث نمبر ۲۶۸۲؛ سنن ابن ماجہ (از حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ) — "العلماء ورثۃ الانبیاء"۔
۳۔ سنن ابی داود، حدیث نمبر ۴۳۴۴؛ جامع ترمذی، حدیث نمبر ۲۱۷۴؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ۴۰۱۱ (از حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) — "افضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر"۔
۴۔ مسند احمد؛ سنن ابن ماجہ (از حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ)۔
۵۔ تفسیر السعدی، سورۃ المائدہ، آیت ۵۴ کے تحت۔

No comments:

Post a Comment

Al-Huda Classes

علماء کی تین اقسام

*علماء کی تین اقسام* *علم اور علماء کا مقام: بصیرت یا مفاد پرستی؟* علم انبیاء کی میراث ہے، اور علماء اس میراث کے امین۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد ف...