Search This Blog

قندیل: ادبیات نظم

وہ پھینکیں گے

فیض سے معذرت کے ساتھ!!

مَیَنک

وہ پھینکیں گے

لازم ہے کہ وہ تو پھینکیں گے

اچھے دن جن کا وعدہ تھا

جو ہر پوسٹر پر لکھا تھا

وہ پھینکیں گے

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

جنتا کے سر پڑ جائیں گے

ہم محکو موں کے پاؤں تلے

دھرتی پل پل کھسکے گی

اور ان کے بھاشن میں جھوٹوں کی

پھر پائل کھن کھن کھنکے گی

وہ پھینکیں گے

جب اکانومی کی لاش گرا

اس پر وہ جشن منائیں گے

جب تعلیم اور روٹی غائب کر

سی اے اے وہ کروا ئیں گے

روزگار گھٹا ئے جائیں گے

اور قیمتیں اچھالی جائیں گی

وہ پھینکیں گے

بس نام رہے گا جنتا کا

جو بھوکی بھی ہے گھائل بھی

اور بھکت کریں گے رقص یہاں

ہر جھوٹ کے ہیں جو قائل بھی

اٹھے گا تب ہر حق کا نعرہ

جو اپنا اس کا سب کا ہو

اور ساتھ اٹھیں گے سارے سر

جنتا کا جو وہ رب کا ہو

ہم لاٹھی گو لی کھائیں گے

لیکن کاغذ نہیں دکھائیں گے

ہم دیکھیں گے

وہ پھینکیں گے

لازم ہے کہ وہ تو پھینکیں کے

ہم دیکھیں گے

ہندی سے ترجمہ: محمدامانت اللہ

No comments:

Post a Comment

Al-Huda Classes

A Golden Words of Hazrat Luqman Alaihissalam

"لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو سنہری نصیحت" "اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو پوری زندگی کے لیے صرف ایک نصیحت کرے، تو وہ کیا ہو...